تحریر :عاطف خان تنولی
افواجِ پاکستان کی صلاحیت، سعودی عرب کا اعتماد، اور امتِ مسلمہ کے لیے ایک امید ؟
دنیا اس وقت غیر معمولی ہلچل اور کشیدگی کے دور سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کا قطر پر حالیہ حملہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔ عرب عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، مگر عالمی طاقتوں کی پالیسیوں میں دوہرا معیار واضح دکھائی دیتا ہے۔ امریکہ حسبِ روایت اسرائیل کی پشت پناہی کرتا نظر آ رہا ہے، اور یہی رویہ دنیا کے امن کے لیے سوالیہ نشان ہے، ایسے نازک وقت میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ صرف ایک کاغذی معاہدہ نہیں بلکہ خطے کی سلامتی، مشترکہ تعاون اور عالمی دباؤ کے مقابلے میں ایک عملی حکمتِ عملی ہے۔ سعودی عرب اپنی سلامتی کے لیے مضبوط پارٹنر چاہتا ہے اور پاکستان اپنی عسکری صلاحیت، تجربے اور دنیا کی بہترین فوج کے باعث اس کا فطری انتخاب ہے، یہ کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ افواجِ پاکستان نہ صرف دنیا کی بہترین اور پروفیشنل افواج میں شمار ہوتی ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں خدمات کی بدولت عالمی سطح پر ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب سمیت کئی ممالک پاکستان کی عسکری مہارت اور تربیتی نظام سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس دفاعی معاہدے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان صرف ایک جغرافیائی ملک نہیں بلکہ خطے میں توازن قائم رکھنے والی ایک بڑی قوت ہے، پاکستانی عوام کے لیے یہ معاہدہ جذبات اور حقیقت دونوں کا امتزاج ہے۔ ایک طرف حرمین شریفین سے عقیدت اور سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار ہے، اور دوسری طرف پاکستان کی اپنی خودمختاری اور خطے کے امن میں کردار ہے۔ یہ شراکت داری نہ صرف پاکستان کی افواج پر اعتماد کا اظہار ہے بلکہ پاکستان کے عالمی وقار میں اضافے کا ذریعہ بھی بنے گی، موجودہ عالمی منظرنامہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ مستقل دوست یا دشمن نہیں، بلکہ صرف مفادات ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اپنے فیصلے ہمیشہ توازن اور وسیع تر قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنے چاہئیں۔ اگر پاکستان اور سعودی عرب کا یہ معاہدہ دوطرفہ عزت اور برابری پر قائم رہا تو یہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک نئی امید ثابت ہو سکتا ہے۔












