بحرِ روم میں “گلوبل صمود فلوٹیلا” کی پیش قدمی، غزہ کی جانب سفر جاری

Author

روم (راجہ ذوالفقار علی )

دو آتشزدگی کے واقعات، تاخیر اور متعدد رکاوٹوں کے باوجود، “گلوبل صمود فلوٹیلا” کی درجنوں کشتیاں بالآخر سسلی سے غزہ کی سمت روانہ ہوگئیں۔ جمعہ کے روز سسلی کے جنوب مشرقی علاقے “پورٹوپالو دی کاپو پاسّیرو” سے 42 کشتیاں روانہ ہوئیں جو اب اٹلی کے ساحل سے تقریباً 300 کلومیٹر دور بحیرہ روم کے وسط میں پہنچ چکی ہیں۔

 

یہ اقدام اب تک کا سب سے بڑا خودمختار انسانی ہمدردی مشن قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد غزہ کی محصور آبادی تک خوراک اور بنیادی ضروریات کی فراہمی ہے۔ اگرچہ اسرائیل نے 2007 سے غزہ پر بحری ناکہ بندی مسلط کر رکھی ہے اور امکان کم ہے کہ یہ کشتیاں ناکہ بندی کو توڑنے میں کامیاب ہوں، تاہم منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کا پیغام سیاسی اور انسانی دونوں حوالوں سے اہم ہے۔

 

اس قافلے میں 18 اطالوی اور 24 کشتیوں کا تعلق تیونس سے ہے، جبکہ منصوبے کے مطابق یہ جہاز بحیرہ روم میں کسی مقام پر یونان سے روانہ ہونے والی مزید چھ کشتیوں سے ملیں گے اور پھر مشترکہ طور پر غزہ کا رخ کریں گے۔

 

اطالوی قافلے کی کشتیاں عموماً 12 سے 16 میٹر لمبی ہیں جو کھلے سمندر میں طویل سفر کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم شدید موسمی حالات کا مقابلہ کرنے میں کمزور ہیں۔ روانگی اصل میں 4 ستمبر کو ہونا تھی لیکن بارسلونا سے آنے والی کشتیوں کو طوفان کے باعث تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ تیونس سے آنے والی “فیملی” اور “الما” نامی کشتیوں پر 8 اور 9 ستمبر کو آتش گیر اشیاء پھینکی گئیں جس کے بعد ان کی مرمت کی گئی۔ علاوہ ازیں ایندھن کی قلت اور سرحدی پولیس کے طویل کاغذی مراحل نے بھی قافلے کو تاخیر کا شکار کیا۔

 

گلوبل صمود فلوٹیلا کی ترجمان ماریا ایلینا ڈیلِیا نے کہا: “ہم روانہ ہو چکے ہیں، اس بار ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ ہمارا پیغام انسانیت اور سیاست دونوں کے لیے ہے۔”

 

دوسری جانب جینوا کی تنظیم “موسیقی برائے امن” (Music for Peace) نے فلوٹیلا کے ساتھ مل کر زمینی راستے سے ایک انسانی راہداری کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اس کے تحت غزہ کے لیے 300 ٹن خوراک پہنچائی جائے گی۔ جینوا میں جمع ہونے والے 500 ٹن میں سے صرف 40 ٹن سامان کشتیوں پر لادا گیا ہے کیونکہ تمام سامان رکھنے کی گنجائش موجود نہیں تھی۔

 

 

Author

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں