اٹلی میں وزارتِ صحت کے زیر غور ایک نئی اصلاحاتی تجویز کے مطابق بچوں کو 18 سال کی عمر تک پیڈیاٹریشن (بچوں کے ڈاکٹر) کے زیر علاج رکھنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فیملی ڈاکٹروں کی کمی کے مسئلے کو کم کرنا ہے۔
یہ تجویز Orazio Schillaci کی جانب سے پیش کردہ جنرل میڈیسن اصلاحات کے ابتدائی مسودے کا حصہ ہے، جسے اب علاقائی حکومتوں، یونینز اور متعلقہ اداروں سے مشاورت کیلئے پیش کیا جا رہا ہے۔
مجوزہ قانون کے مطابق بچوں کی پیدائش سے لے کر 18 سال کی عمر تک پیڈیاٹریشن کے ساتھ رجسٹریشن ممکن ہوگی، جبکہ موجودہ نظام میں یہ حد عام طور پر 14 سال ہے، اور بعض خاص حالات میں 16 سال تک بڑھائی جاتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں صحت کے نظام کو زیادہ یکساں اور مؤثر بنانا ہے۔
مسودے میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ پیڈیاٹریشن اور فیملی ڈاکٹروں دونوں کیلئے مریضوں کی تعداد کی ایک مشترکہ حد مقرر کی جائے، جبکہ معاوضے کے نظام میں بھی اصلاحات کی جائیں تاکہ پورے ملک میں یکساں معیار کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری 2025 تک اٹلی میں 6,284 پیڈیاٹریشنز کے پاس تقریباً 57 لاکھ 63 ہزار بچے رجسٹرڈ تھے، جن میں سے 23 لاکھ 56 ہزار بچے ایسے تھے جن کی عمر 0 سے 6 سال کے درمیان ہے اور وہ مکمل طور پر پیڈیاٹریشن کی نگرانی میں ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس عمر کی حد بڑھانے سے فیملی ڈاکٹروں پر دباؤ کم ہوگا اور نئے ڈاکٹروں کی کمی کے مسئلے کو وقتی طور پر سنبھالا جا سکے گا۔ تاہم اس کے نتیجے میں سالانہ تقریباً 52 کروڑ یورو اضافی اخراجات کا بوجھ پڑ سکتا ہے اور ملک بھر میں مزید 1300 پیڈیاٹریشنز کی ضرورت پیش آئے گی۔
یہ تجویز ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا، تاہم اگر اسے منظور کر لیا گیا تو یہ اٹلی کے صحت کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔












