یومِ فتح : دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کی یاد

Author

مئی دنیا کو امن کی قیمت یاد دلاتا ہے

مئی دنیا کی تاریخ کا ایک ایسا دن ہے جسے کئی ممالک “Victory Day” یا “یومِ فتح” کے طور پر مناتے ہیں۔ یہ دن نازی جرمنی کے خلاف دوسری جنگِ عظیم میں کامیابی کی یادگار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ خاص طور پر روس، بیلاروس، سربیا اور سابق سوویت ریاستوں میں اس دن کی غیر معمولی اہمیت ہے، جہاں لاکھوں افراد جنگ میں اپنی جانیں قربان کر چکے تھے۔

دوسری جنگِ عظیم انسانی تاریخ کی سب سے تباہ کن جنگ سمجھی جاتی ہے۔ 1939 سے 1945 تک جاری رہنے والی اس جنگ نے دنیا کے نقشے، سیاست اور عالمی طاقتوں کے توازن کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔ اندازوں کے مطابق سات کروڑ سے زائد انسان اس جنگ کا شکار ہوئے جبکہ یورپ کے کئی شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے۔

9 مئی 1945 کو نازی جرمنی نے باضابطہ طور پر ہتھیار ڈالے، جس کے بعد یورپ میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔ یہی دن بعد میں “Victory Day” کہلایا۔ روس اور کئی دیگر ممالک آج بھی اس دن کو قومی فخر، قربانیوں کی یاد اور حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ مناتے ہیں۔

اس جنگ نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ طاقت کی اندھی خواہش، نسل پرستی اور انتہاپسندی انسانیت کو تباہی کے دہانے تک لے جا سکتی ہے۔ لاکھوں بے گناہ شہری، خواتین اور بچے اس جنگ کی بھینٹ چڑھے۔ ہولوکاسٹ جیسے المناک واقعات بھی اسی دور کی تلخ حقیقت ہیں، جنہیں آج بھی انسانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار کیا جاتا ہے۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا نے اقوام متحدہ جیسے اداروں کی بنیاد رکھی تاکہ آئندہ نسلوں کو ایسی تباہ کن جنگوں سے بچایا جا سکے۔ یورپی ممالک نے بھی یہی سبق سیکھا کہ مستقل امن صرف تعاون، اتحاد اور مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس کے نتیجے میں بعد ازاں یورپی یونین وجود میں آئی۔

آج جب دنیا ایک بار پھر مختلف جنگوں، سیاسی کشیدگی اور طاقت کے مظاہروں کا شکار ہے تو یومِ فتح صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ حال اور مستقبل کیلئے ایک وارننگ بھی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جنگ میں جیتنے والا بھی آخرکار بہت کچھ ہار دیتا ہے۔ تباہ شدہ شہر دوبارہ تعمیر ہو سکتے ہیں، مگر انسانی جانوں کا نقصان کبھی پورا نہیں کیا جا سکتا۔

9 مئی کا دن دراصل ان لاکھوں لوگوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے جنہوں نے امن کیلئے اپنی جانیں قربان کیں۔ یہ دن ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ دنیا کو مزید ہتھیاروں کی نہیں بلکہ امن، برداشت اور مکالمے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں