روم، جو تاریخ، ثقافت اور سیاحت کا مرکز سمجھا جاتا ہے، حالیہ برسوں میں ایک نئی اصطلاح کی وجہ سے خبروں کی زینت بن رہا ہے — “بے بی گینگ”۔ یہ اصطلاح بظاہر سننے میں معمولی لگتی ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی حقیقت ایک سنجیدہ سماجی مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے۔
“بے بی گینگ” دراصل کسی ایک مخصوص یا منظم گروہ کا نام نہیں، بلکہ یہ لفظ ان کم عمر نوجوانوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو چھوٹے چھوٹے گروپس کی شکل میں جرائم کی سرگرمیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ ان کی عمریں عموماً 13 سے 20 سال کے درمیان ہوتی ہیں اور یہ نوجوان مختلف سماجی و معاشی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔
روم کے بعض علاقوں، خاص طور پر ریلوے اسٹیشنز اور مضافاتی علاقوں میں، ایسے گروہوں کی موجودگی کے حوالے سے اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔ ان کی سرگرمیوں میں جیب تراشی، موبائل چھیننا، سڑکوں پر جھگڑے، اور بعض اوقات چاقو یا دیگر ہتھیاروں کا استعمال بھی شامل ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ واقعات ہر جگہ نہیں ہوتے، مگر جہاں ہوتے ہیں وہاں خوف اور بے چینی کی فضا ضرور پیدا کرتے ہیں۔
اس مسئلے کی ایک اہم جہت سوشل میڈیا بھی ہے۔ آج کا نوجوان نہ صرف حقیقت میں بلکہ ورچوئل دنیا میں بھی اپنی پہچان بنانا چاہتا ہے۔ بعض نوجوان “گینگ کلچر” کو فیشن یا طاقت کی علامت سمجھ کر اپناتے ہیں اور اپنی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں، جس سے یہ رجحان مزید پھیلتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مسئلے کی جڑیں کہیں زیادہ گہری ہیں۔ خاندانی عدم استحکام، تعلیمی نظام سے دوری، معاشی مشکلات، اور سماجی انضمام کے مسائل ان نوجوانوں کو ایسے راستوں کی طرف دھکیلتے ہیں۔ خاص طور پر وہ نوجوان جو معاشرے میں خود کو الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں، وہ جلدی ایسے گروہوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ میڈیا میں اس مسئلے کو بعض اوقات بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، جس سے پورے شہر کا تاثر متاثر ہوتا ہے۔ روم آج بھی ایک محفوظ اور پرامن شہر ہے جہاں روزانہ لاکھوں سیاح آتے ہیں اور معمول کی زندگی جاری رہتی ہے۔ “بے بی گینگ” کا مسئلہ مخصوص علاقوں اور محدود واقعات تک ہی محدود ہے، لیکن اس کے باوجود اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں، جن میں پولیس گشت میں اضافہ، کمیونٹی پروگرامز، اور نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں کا فروغ شامل ہے۔ اسکولز اور سماجی ادارے بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں تاکہ نوجوانوں کو بہتر راستہ دکھایا جا سکے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ “بے بی گینگ” صرف ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی چیلنج ہے، جس کا حل صرف سخت قوانین میں نہیں بلکہ تعلیم، آگاہی اور معاشرتی ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم واقعی اس مسئلے کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ہمیں نوجوانوں کو بہتر مواقع دینا ہوں گے تاکہ وہ اپنی توانائیاں مثبت سمت میں استعمال کر سکیں۔












