یورپی یونین میں پناہ گزینوں اور تارکین وطن سے متعلق اصلاحات پر مبنی نیا نظام آج سے نافذ العمل ہو گیا ہے، جس کا مقصد بیرونی سرحدوں پر نگرانی کو مؤثر بنانا، پناہ کی درخواستوں پر تیز رفتار فیصلے کرنا اور غیر قانونی نقل مکانی کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
“مشترکہ یورپی پناہ گزین نظام” (CEAS) کے نام سے معروف یہ اصلاحات کئی برسوں کے مذاکرات اور مشاورت کے بعد منظور کی گئی تھیں۔ نئے قواعد کے تحت ایسے درخواست گزار جن کی پناہ کی درخواست منظور ہونے کے امکانات کم ہوں گے، انہیں تیز رفتار طریقہ کار کے تحت جانچا جائے گا، جس کی مدت زیادہ سے زیادہ 12 ہفتے مقرر کی گئی ہے۔
اس عرصے کے دوران درخواست گزاروں کو یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں پر قائم خصوصی مراکز میں رکھا جا سکتا ہے، جہاں ان کی درخواستوں کی جانچ اور ضرورت پڑنے پر ملک بدری کے عمل کو تیز تر بنایا جائے گا۔
نئے نظام کا ایک اہم مقصد “ثانوی نقل مکانی” کی روک تھام بھی ہے، یعنی ایسے پناہ گزین جو کسی ایک یورپی ملک میں رجسٹریشن کروانے کے بعد اپنی مرضی سے دوسرے رکن ملک منتقل ہو جاتے ہیں۔
اصلاحات کے تحت یونان، اٹلی اور دیگر سرحدی ممالک پر مہاجرین کا بوجھ کم کرنے کے لیے ایک نیا “یکجہتی نظام” متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک مالی امداد، عملی تعاون یا پناہ گزینوں کی منتقلی کے ذریعے ذمہ داریوں میں حصہ ڈال سکیں گے۔
دوسری جانب جرمنی نے غیر قانونی امیگریشن اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی سرحدوں پر نگرانی اور چیکنگ کے اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق نئے یورپی نظام کا مقصد پناہ گزینوں کے معاملات کو زیادہ منظم، شفاف اور مؤثر بنانا ہے تاکہ رکن ممالک کے درمیان ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جا سکے۔












