اٹلی کی ایک عدالت نے پاکستانی نژاد میاں بیوی کو اپنی 22 سالہ بیٹی پر مسلسل تشدد، جبری شادی کی کوشش اور اسقاطِ حمل پر مجبور کرنے کے جرم میں دو سال اور 15 دن قید کی سزا سنا دی۔
اطالوی خبر رساں ادارے ANSA کے مطابق متاثرہ خاتون نے کئی سال تک جاری رہنے والے جسمانی اور ذہنی تشدد کے بعد حکام کو شکایت درج کروائی، جس کے بعد مقدمہ عدالت تک پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق والدین اپنی بیٹی کو پاکستان لے جا کر اس کے کزن سے شادی کروانا چاہتے تھے اور اس مقصد کے لیے اس پر مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا۔ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ اسے موبائل فون سے محروم رکھا گیا، تہہ خانے میں بند کیا جاتا تھا، مارا پیٹا جاتا تھا اور زبردستی منگنی و شادی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔
عدالتی کارروائی کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ جب خاتون اپنی پسند کے نوجوان سے حاملہ ہوئی تو والدین نے مبینہ طور پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور اسقاطِ حمل پر مجبور کیا۔
ریجو ایمیلیا کی عدالت نے والدین کو بدسلوکی اور جبری شادی کی کوشش کے الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے دو سال اور 15 دن قید کی سزا سنائی۔
یہ کیس اٹلی میں پاکستانی نژاد لڑکی Saman Abbas کے معروف مقدمے کے بعد ایک بار پھر جبری شادی اور خاندانی تشدد کے مسئلے کو اجاگر کر رہا ہے۔ اٹلی میں 2019 سے کسی شہری یا مستقل رہائشی کو زبردستی شادی پر مجبور کرنا باقاعدہ جرم قرار دیا جا چکا ہے۔












