ڈونلڈ لو اور پاکستانی سفیر کے درمیان حساس گفتگو کا متن زیرِ بحث
پاکستان کی سیاست میں ہلچل پیدا کرنے والے مبینہ سفارتی سائفر کی تفصیلات ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئی ہیں، جس میں امریکا کے اعلیٰ سفارتی عہدیدار ڈونلڈ لو اور پاکستانی سفیر کے درمیان ہونے والی گفتگو درج ہے۔
دستاویز کے مطابق 7 مارچ 2022 کو واشنگٹن میں جنوبی و وسطی ایشیا کیلئے امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈ لو اور پاکستانی سفیر کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں یوکرین بحران، وزیراعظم عمران خان کے روسی دورے، افغانستان اور پاک امریکا تعلقات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
مبینہ سائفر میں درج ہے کہ ڈونلڈ لو نے پاکستان کے یوکرین پر “غیر جانبدار” مؤقف پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور یورپ میں اس معاملے پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ دستاویز کے مطابق امریکی حکام وزیراعظم عمران خان کے ماسکو دورے کو اہم مسئلہ سمجھ رہے تھے۔
سفارتی مراسلے میں یہ جملہ خاص طور پر نمایاں ہے کہ اگر وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو “واشنگٹن میں سب کچھ معاف ہو جائے گا”، بصورت دیگر پاکستان کو مشکلات اور سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دستاویز کے مطابق پاکستانی سفیر نے امریکی مؤقف کو “غلط تاثر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس کا دورہ کئی سال سے منصوبہ بندی میں تھا اور پاکستان کا یوکرین پر مؤقف ادارہ جاتی مشاورت کے بعد اختیار کیا گیا۔ پاکستانی سفیر نے واضح کیا کہ پاکستان تمام فریقوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہ اقوام متحدہ کے چارٹر، ریاستی خودمختاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے اصولوں کا حامی ہے۔
مراسلے میں افغانستان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے مؤقف اختیار کیا کہ یوکرین بحران کے باعث افغانستان سے عالمی توجہ ہٹنے کا خدشہ ہے، جبکہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کیلئے تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ رابطہ رکھنا ضروری سمجھتا ہے۔
دستاویز کے مطابق پاکستانی سفیر نے امریکا پر یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ واشنگٹن بھارت اور پاکستان کیلئے مختلف معیار استعمال کر رہا ہے، کیونکہ بھارت نے بھی روس اور یوکرین معاملے پر محتاط مؤقف اپنایا تھا۔
سائفر کے آخر میں پاکستانی سفیر نے اپنی assessment میں لکھا کہ ڈونلڈ لو اتنا سخت پیغام وائٹ ہاؤس کی منظوری کے بغیر نہیں دے سکتے تھے اور ان کی گفتگو پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت کے مترادف محسوس ہوئی۔
یہ مبینہ سفارتی سائفر گزشتہ چند برسوں سے پاکستان کی سیاسی بحث کا اہم حصہ رہا ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں اسے اپنے اپنے مؤقف کے حق میں استعمال کرتی رہی ہیں۔












