اٹلی کے “کاسا فامیلیا” ادارے میں مبینہ جنسی استحصال کا انکشاف

Author

اٹلی کے دارالحکومت روم میں کم عمر غیر ملکی لڑکوں کے مبینہ جنسی استحصال کا ایک حساس اور سنگین کیس منظر عام پر آگیا، جہاں ایک خاتون سوشل ورکر اور ایجوکیٹر کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون پر الزام ہے کہ اُس نے ایک “کاسا فامیلیا” یعنی فیملی ہوم میں رہنے والے دو کم عمر لڑکوں کے ساتھ نامناسب تعلقات قائم کیے اور انہیں اٹلی میں رہائشی اجازت نامہ “پرمیسو دی سوجورنو” دلانے کا لالچ دیا۔
رپورٹس کے مطابق متاثرہ لڑکوں کی عمریں تقریباً پندرہ برس تھیں اور وہ ایک سماجی نگہداشت کے ادارے میں مقیم تھے۔ استغاثہ کا مؤقف ہے کہ خاتون نے اپنے عہدے اور اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے بچوں کی کمزور صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔
اطالوی پراسیکیوٹر کے مطابق متاثرہ بچوں نے بعد میں حکام کو پورے واقعے سے آگاہ کیا جس کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران پراسیکیوٹر نے خاتون کیلئے تقریباً چھ سال قید کی سزا کی استدعا بھی کی ہے۔
اطالوی میڈیا کے مطابق کیس نے اٹلی میں کم عمر غیر ملکی بچوں کے تحفظ، سوشل سروسز کے نظام اور امیگریشن معاملات میں اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انسانی حقوق کے حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے اداروں میں نگرانی کے نظام کو مزید سخت کیا جائے تاکہ کمزور اور بے سہارا بچوں کو ہر قسم کے استحصال سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں