اٹلی کے جنوبی علاقے کالابریا کے صوبہ کوسینزا کے قصبے امینڈولارا میں چار تارکینِ وطن مزدوروں کی گاڑی میں جل کر ہلاکت کے واقعے نے خوفناک رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں تحقیقات کے بعد دو پاکستانی شہریوں کو قتلِ عمد کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔
اطالوی میڈیا کے مطابق ابتدائی طور پر گاڑی میں آگ لگنے کو حادثہ سمجھا جا رہا تھا، تاہم پٹرول پمپ پر نصب نگرانی کے کیمروں کی فوٹیج نے واقعے کو ایک منظم قتل قرار دینے کی بنیاد فراہم کر دی۔ فوٹیج میں مبینہ طور پر دو افراد کو گاڑی کے دروازے باہر سے بند کرتے اور آتش گیر مادہ پھینکتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔
تحقیقات کے دوران ایک افغان شہری سامنے آیا جو اسی گاڑی میں موجود تھا لیکن کھڑکی توڑ کر جان بچانے میں کامیاب ہو گیا۔ زخمی حالت میں دیے گئے بیان میں اس نے دعویٰ کیا کہ حملہ آوروں نے پہلے گاڑی پر پٹرول چھڑکا اور پھر آگ لگا دی۔ اس کے مطابق مزدوروں اور مبینہ ملزمان کے درمیان پیسوں اور مزدوری کے معاملات پر تنازع موجود تھا۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو کام تو کروایا جاتا تھا مگر انہیں اجرت ادا نہیں کی جاتی تھی۔ اس کے مطابق متاثرین نے اپنی مزدوری کا مطالبہ کیا تھا اور بہتر کام کے حالات چاہتے تھے، جس کے بعد کشیدگی پیدا ہوئی۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق دونوں زیرِ حراست افراد پر متعدد افراد کے قتل اور سنگین نوعیت کے جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ واقعے کے تمام محرکات اور ممکنہ دیگر ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔
کالابریا کے علاقائی صدر اور مذہبی رہنماؤں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت سوز جرم قرار دیا ہے اور تارکینِ وطن مزدوروں کے استحصال کے خلاف مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔












