جھارا پہلوان وہ شہ زور جس نے انوکی کو جھکا دیا، مگر زندگی کی کشتی ہار گیا

Author

پاکستان کی سرزمین نے کئی عظیم پہلوان پیدا کیے، مگر کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو صرف اکھاڑوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ نسلوں کی یادداشت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ محمد زبیر عرف جھارا پہلوان بھی ایک ایسا ہی نام تھے۔ ایک ایسا نوجوان جس نے صرف انیس برس کی عمر میں دنیا کے عظیم ترین ریسلرز میں شمار ہونے والے جاپانی شہرت یافتہ انتونیو انوکی کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ایسا مقابلہ دیا کہ ہزاروں تماشائی دیوانہ وار نعرے لگانے پر مجبور ہوگئے۔ مگر یہی نوجوان بعد میں نشے کی دلدل میں ایسا ڈوبا کہ جوانی ہی میں دنیا سے رخصت ہوگیا۔ جھارا کی زندگی طاقت، شہرت، عظمت، غرور، زوال اور المیے کی ایک مکمل داستان ہے۔
لاہور کے تاریخی علاقے پیر مکی میں واقع بھولو پہلوان کے اکھاڑے کے قریب آج بھی جھارا پہلوان کی قبر موجود ہے۔ وہیں جہاں برصغیر کی پہلوانی تاریخ کے کئی عظیم نام آسودۂ خاک ہیں۔ جھارا کا تعلق برصغیر کے اس تاریخی پہلوان خاندان سے تھا جس کا نام سنتے ہی گاما پہلوان، امام بخش، بھولو پہلوان اور دیگر نام ذہن میں گونجنے لگتے ہیں۔
24 ستمبر 1960 کو لاہور میں پیدا ہونے والے محمد زبیر عرف جھارا کے والد رستم پنجاب محمد اسلم عرف اچھا پہلوان تھے جبکہ ان کے خاندان میں تقریباً ہر فرد کسی نہ کسی اعزاز کا حامل تھا۔ ان کے تایا منظور حسین عرف بھولو پہلوان دنیا بھر میں پہچانے جاتے تھے، جبکہ اکرم پہلوان، اعظم پہلوان، حسو پہلوان اور گوگا پہلوان جیسے نام بھی اسی خاندان کی طاقت کی علامت تھے۔ جھارا کو پیدائشی طور پر طاقتور جسم ملا تھا۔ پہلوانی زبان میں انہیں “اصیل بوٹی” کہا جاتا تھا، یعنی ماں اور باپ دونوں جانب سے پہلوان نسل سے تعلق رکھنے والا نوجوان۔
کہا جاتا ہے کہ جب جھارا پرائمری کے امتحان میں ناکام ہوئے تو وہ اداس ہونے کے بجائے خوش ہوئے، کیونکہ اب انہیں تعلیم کے بجائے مکمل طور پر پہلوانی کی دنیا میں قدم رکھنے کا موقع مل گیا تھا۔ بھولو پہلوان نے خود ان کی تربیت کی نگرانی کی۔ ان کی روزانہ کی زندگی عام انسانوں کیلئے ناقابل یقین محسوس ہوتی تھی۔ رات دو بجے جگایا جاتا، نماز کے بعد ہزاروں بیٹھکیں لگوائی جاتیں، میلوں دوڑایا جاتا، راوی دریا تیر کر عبور کروایا جاتا، اکھاڑا خود تیار کروایا جاتا، پھر کئی کئی پہلوانوں سے زور کروایا جاتا۔
جھارا کی خوراک بھی غیر معمولی تھی۔ کئی کلو گوشت، دودھ، یخنی، بادام کی سردائی، مکھن اور خاص طاقت بخش مرکبات ان کی روزانہ خوراک کا حصہ تھے۔ ان کی شخصیت میں حیران کن پھرتی، رفتار اور طاقت موجود تھی۔ چھ فٹ سے زیادہ قد، فولادی جسم اور بے خوف انداز نے انہیں کم عمری ہی میں نمایاں کر دیا تھا۔
1978 میں جھارا نے اپنے ابتدائی مقابلوں میں حریفوں کو حیران کن انداز میں شکست دی۔ ان کی شہرت لاہور سے نکل کر پورے پاکستان میں پھیلنے لگی۔ اسی دوران جاپان کے عالمی شہرت یافتہ ریسلر انتونیو انوکی کے ساتھ مقابلے کی بات طے ہوئی۔ انوکی اُس وقت عالمی سطح پر ایک بہت بڑا نام تھے۔ وہ محمد علی جیسے عالمی باکسر تک کے ساتھ مقابلہ کر چکے تھے۔ پاکستان میں انوکی کو شکست دینا صرف ایک کھیل نہیں بلکہ قومی وقار کا معاملہ بن چکا تھا کیونکہ چند برس قبل انوکی نے اکرم پہلوان کو شکست دی تھی۔
17 جون 1979 کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہونے والا یہ تاریخی دنگل پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ کا ایک عظیم ترین منظر بن گیا۔ چالیس ہزار سے زائد لوگ اسٹیڈیم میں موجود تھے جبکہ ہزاروں افراد باہر رہ گئے۔ شہر لاہور میں جشن جیسا ماحول تھا۔ جب جھارا سرخ لباس اور بڑی پگڑی میں اکھاڑے میں داخل ہوئے تو پورا اسٹیڈیم نعروں سے گونج اٹھا۔
مقابلہ شروع ہوا تو جلد ہی واضح ہوگیا کہ نوجوان جھارا جاپانی لیجنڈ پر بھاری پڑ رہے ہیں۔ وہ مسلسل حملے کر رہے تھے، انوکی کو رنگ کے اندر اور باہر دھکیل رہے تھے، کئی بار زمین پر پٹخا اور مشہور “دھوبی پٹکا” داؤ بھی آزمایا۔ انوکی دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔ پورے پانچ راؤنڈز میں جھارا زیادہ متحرک، طاقتور اور پُراعتماد نظر آئے۔
اگرچہ سرکاری طور پر مقابلہ برابر قرار دیا گیا، مگر ایک تاریخی لمحہ اُس وقت پیدا ہوا جب انتونیو انوکی خود آگے بڑھے، جھارا کا ہاتھ بلند کیا اور ان کی برتری تسلیم کر لی۔ یہ منظر دیکھ کر قذافی اسٹیڈیم خوشی سے پھٹ پڑا۔ لوگ رنگ میں کود پڑے، نعرے لگائے اور جھارا کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔ اس دن ایک نوجوان پاکستانی پہلوان نے دنیا کو بتا دیا تھا کہ لاہور کے اکھاڑے ابھی زندہ ہیں۔
اس کامیابی کے بعد جھارا پہلوان پاکستان کے قومی ہیرو بن گئے۔ مگر یہی وہ وقت تھا جب ان کی زندگی نے خطرناک موڑ لینا شروع کیا۔ شہرت کے ساتھ غلط صحبتیں بھی ان کے گرد جمع ہونے لگیں۔ محلے کے دادا گروپوں، جگا ٹیکس لینے والوں اور جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ میل جول نے ان کی شخصیت بدلنا شروع کر دی۔
بھولو پہلوان اور خاندان کے دیگر افراد نے انہیں سنبھالنے کی بہت کوشش کی۔ ان کی شادی بھی کروائی گئی تاکہ وہ سنجیدہ زندگی اختیار کریں، مگر قسمت شاید کچھ اور لکھ چکی تھی۔ آہستہ آہستہ جھارا نشے کی طرف مائل ہوگئے۔ پہلے سگریٹ، پھر ہیروئن اور بعد ازاں خطرناک قسم کے نشے ان کی زندگی کا حصہ بنتے چلے گئے۔
وہی نوجوان جس کی طاقت کے قصے پورے برصغیر میں سنائے جاتے تھے، اب کمزور پڑنے لگا تھا۔ ان کی آنکھوں میں خمار، جسم میں کپکپی اور طبیعت میں بگاڑ واضح ہونے لگا۔ خاندان نے علاج اور سمجھانے کی کوشش کی مگر نشے نے ان پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی۔
ان کی آخری کشتیوں میں وہ پہلے جیسے نظر نہ آئے۔ بعض مقابلوں میں تو وہ نشے کی حالت میں اکھاڑے میں اترے۔ بھولو پہلوان خود اس صورتحال سے دل برداشتہ ہو چکے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اب جھارا کو مزید کشتی نہ لڑوائی جائے کیونکہ ان کی عظمت کا بھرم ٹوٹ جائے گا۔
1984 کے بعد جھارا عملی طور پر پہلوانی سے دور ہوگئے۔ وہ کبھی کبھار اکھاڑے ضرور جاتے مگر وہ طاقت، وہ جذبہ اور وہ چمک ختم ہو چکی تھی۔ آخرکار 10 ستمبر 1991 کو صرف 31 برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے سے ان کا انتقال ہوگیا۔ بہت سے لوگوں کے مطابق ان کی اصل موت نشے نے لکھی تھی۔
جھارا پہلوان آج بھی پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ کا ایک عظیم باب ہیں۔ وہ ناقابل شکست رہے، انہوں نے انوکی جیسے عالمی شہرت یافتہ ریسلر کو جھکایا، مگر اپنی زندگی کی جنگ میں وہ تنہا رہ گئے۔ ان کی داستان صرف ایک پہلوان کی کہانی نہیں بلکہ یہ ایک سبق بھی ہے کہ انسان کو شکست ہمیشہ میدان میں نہیں، بعض اوقات اپنی کمزوریوں کے ہاتھوں بھی ہوتی ہے۔

جاپانی پہلوان انتونیو اِنوکی نے جھارا کے چچا محمد اکرم عرف اَکی پہلوان کو ہرایا تھا

جاپانی پہلوان انتونیو اِنوکی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں