حسد کی آگ اور کردار کی روشنی

Author

اچھا کردار ہمیشہ وقت کی آزمائش میں سرخرو رہتا ہے

معاشرہ صرف عمارتوں، سڑکوں اور اداروں سے تشکیل نہیں پاتا بلکہ انسانوں کے کردار، سوچ اور رویّوں سے اس کی اصل پہچان بنتی ہے۔ جہاں اخلاص، محبت، دیانت داری اور احساسِ ذمہ داری موجود ہو وہاں اعتماد، سکون اور ترقی جنم لیتے ہیں، لیکن جہاں حسد، بغض، منافقت اور احساسِ محرومی دلوں میں جگہ بنا لیں وہاں تعلقات کمزور اور ماحول زہریلا ہو جاتا ہے۔

آج کے معاشرے کا ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ لوگ دوسروں کی ناکامی پر خاموش رہتے ہیں، مگر جیسے ہی کوئی شخص اپنی محنت، اچھے کردار اور دیانت داری کی بدولت آگے بڑھنے لگتا ہے تو بعض دل بے چین ہو اٹھتے ہیں۔ انہیں یہ خوف گھیر لیتا ہے کہ کہیں کسی دوسرے کی کامیابی ان کی اپنی کوتاہیوں اور غفلت کو بے نقاب نہ کر دے۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں حسد انسان کے کردار پر غالب آنے لگتا ہے۔

کچھ لوگ دوسروں کی روشنی سے اس قدر خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ وہ نہ صرف خود اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرتے ہیں بلکہ اگر کوئی دوسرا شخص خلوصِ نیت اور محنت سے اپنا فرض ادا کر رہا ہو تو اس کی راہ میں رکاوٹیں بھی کھڑی کرنے لگتے ہیں۔ وہ دوسروں کے حوصلے توڑنے، ان کے کام میں خامیاں تلاش کرنے اور ان کی نیت پر شک کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ دوسروں کی کامیابی سے نہیں بلکہ اپنی ناکامیوں سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ جو شخص خود عمل سے خالی ہو وہ دوسروں کی کامیابی کو اپنی کمزوریوں کا آئینہ سمجھنے لگتا ہے۔

ایک ادارے میں دو افراد ساتھ کام کرتے تھے۔ ایک شخص نہایت محنتی، ذمہ دار اور خاموش طبیعت کا مالک تھا۔ وہ وقت کی پابندی کرتا، اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے نبھاتا اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتا۔ رفتہ رفتہ لوگ اس کی عزت کرنے لگے اور اس کی رائے کو اہمیت دی جانے لگی۔

دوسرا شخص اس کے برعکس غفلت، لاپرواہی اور بہانے بازی کا عادی تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ محنتی شخص عزت، اعتماد اور کامیابی حاصل کر رہا ہے تو اس کے اندر حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔ کبھی وہ اس کے خلاف افواہیں پھیلاتا، کبھی اس کے کام میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کرتا اور کبھی دوسروں کے سامنے اس کی خامیاں بیان کرتا۔

مگر وقت کے ساتھ حقیقت سب پر آشکار ہوتی چلی گئی۔ محنتی شخص اپنی سچائی، خلوص اور کردار کی وجہ سے مزید مضبوط ہوتا گیا جبکہ حسد کرنے والا شخص اپنی منفی سوچ کا شکار ہو کر تنہا رہ گیا۔ کیونکہ سچائی وقتی طور پر دب تو سکتی ہے مگر ختم نہیں ہو سکتی۔

حسد دراصل ایک خاموش بیماری ہے جو انسان کے دل، سوچ اور کردار کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر دیتی ہے۔ حسد کرنے والا نہ خود سکون میں رہتا ہے اور نہ دوسروں کی خوشی برداشت کر پاتا ہے۔ وہ دوسروں کی روشنی بجھانے کی کوشش میں اپنی ہی شخصیت کا وقار کھو بیٹھتا ہے۔

یاد رکھنا چاہیے کہ باکردار لوگ اپنی باتوں سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے پہچانے جاتے ہیں۔ مخالفتیں اور رکاوٹیں وقتی طور پر راستہ مشکل ضرور بنا سکتی ہیں مگر سچائی، محنت اور خلوص کو شکست نہیں دے سکتیں۔ یہی خوبیاں آخرکار انسان کو عزت، اعتماد اور لوگوں کے دلوں میں جگہ دلاتی ہیں۔

دانشمند وہی ہے جو دوسروں کی کامیابی سے جلنے کے بجائے اپنی اصلاح کرے، اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کرے اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ کیونکہ کانٹے بچھانے والے وقتی نقصان تو پہنچا سکتے ہیں مگر عزت ہمیشہ وہی لوگ پاتے ہیں جو محبت، خیر خواہی اور اچھے کردار کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔

وقت گزر جاتا ہے، عہدے بدل جاتے ہیں، مگر اچھا کردار اور نیک عمل ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ اگر حقیقی سکون، عزت اور کامیابی حاصل کرنی ہے تو دوسروں کی روشنی بجھانے کے بجائے اپنی ذات کو روشن کیجیے، کیونکہ اندھیرا چراغ بجھانے سے نہیں بلکہ چراغ جلانے سے ختم ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں