جاپان کے سائنسدانوں نے دنیا کی پہلی ایسی دوا پر انسانی تجربات شروع کر دیے ہیں جو مستقبل میں قدرتی طور پر نئے دانت اُگانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ تجربات کامیاب رہے تو آنے والے برسوں میں مصنوعی دانت، ڈینٹل امپلانٹس اور روایتی علاج کے طریقوں میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔
یہ تحقیق جاپان کے کیوٹو یونیورسٹی اسپتال اور کیتانو ہسپتال کے سائنسدانوں کی جانب سے کی جا رہی ہے، جہاں TRG-035 نامی دوا انسانی آزمائش کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ دوا USAG-1 نامی پروٹین کو بلاک کرتی ہے، جو عام حالات میں نئے دانتوں کی افزائش کو روکتی ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس پروٹین کو روکنے سے جسم میں موجود “تیسرے دانت” کی پوشیدہ صلاحیت دوبارہ متحرک ہو سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی تجربات چوہوں، فیریٹس اور کتوں پر کیے گئے تھے، جہاں حیران کن طور پر نئے دانت اُگ آئے اور کسی بڑے منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔ انہی نتائج کے بعد اب بالغ انسانوں پر کلینیکل ٹرائلز جاری ہیں تاکہ دوا کی حفاظت، خوراک اور مؤثریت کا جائزہ لیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دوا کامیاب ثابت ہوئی تو یہ خاص طور پر اُن افراد کیلئے امید کی نئی کرن بن سکتی ہے جو پیدائشی طور پر دانتوں کی کمی، حادثات یا عمر کے باعث دانت کھو چکے ہیں۔ سائنسدان پُرامید ہیں کہ یہ دوا 2030 تک عام استعمال کیلئے دستیاب ہو سکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت صرف ڈینٹل سائنس ہی نہیں بلکہ ری جنریٹو میڈیسن کے شعبے میں بھی ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے انسانی جسم کے قدرتی اعضا کی دوبارہ افزائش کے امکانات مزید روشن ہو گئے ہیں۔












