اصحابِ کہف

Author

ایمان کے وہ نوجوان جنہیں اللہ نے صدیوں تک سلا دیا

قرآنِ مجید میں بیان کیے گئے واقعات میں “اصحابِ کہف” کا واقعہ نہایت عظیم، ایمان افروز اور حیرت انگیز حیثیت رکھتا ہے۔ یہ واقعہ سورۂ کہف میں بیان ہوا ہے اور صدیوں سے مسلمانوں، عیسائیوں اور تاریخ دانوں کیلئے دلچسپی اور تحقیق کا مرکز رہا ہے۔ اصحابِ کہف کا واقعہ صرف چند نوجوانوں کی غار میں پناہ لینے کی کہانی نہیں بلکہ حق، ایمان، قربانی، صبر اور اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کی ایسی نشانی ہے جو قیامت تک انسانوں کو راستہ دکھاتی رہے گی۔

اصحابِ کہف کا دور اور ظالم بادشاہ

تاریخی روایات کے مطابق اصحابِ کہف کا واقعہ تقریباً تیسری صدی عیسوی کے آس پاس پیش آیا۔ اُس وقت رومی سلطنت کا دور تھا اور ایک ظالم بادشاہ “دقیانوس” (Decius یا Decianus) حکومت کرتا تھا۔ یہ بادشاہ بت پرستی کا سخت حامی تھا اور خود کو خدائی اختیارات کا مالک سمجھتا تھا۔

اس کے دور میں جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا یا بتوں کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا، اسے شدید سزائیں دی جاتیں۔ لوگوں کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ بادشاہ اور بتوں کی عبادت کریں۔ ایسے خوفناک ماحول میں چند نوجوانوں نےاللہ کی وحدانیت کو قبول کیا اور شرک کے خلاف کھڑے ہوگئے۔

اصحابِ کہف کون تھے؟

اسلامی روایات اور بعض تاریخی کتابوں میں ان نوجوانوں کے نام مختلف انداز میں بیان کیے گئے ہیں، تاہم مشہور نام یہ ہیں:

1۔ مکسلمینا

2۔ یملیخا

3۔ مرطونس

4۔ کشفوطط

5۔ دینموس

6۔ ساذنوس

7۔ بطونس

ان کے ساتھ ایک وفادار کتا بھی تھا جس کا نام “قطمیر” بتایا جاتا ہے۔ قرآنِ پاک میں اگرچہ ان کے نام ذکر نہیں کیے گئے، مگر ان کے ایمان اور اخلاص کو ہمیشہ کیلئے امر کر دیا گیا۔

یہ نوجوان شاہی خاندانوں اور معزز گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے پاس دولت، عزت اور آرام دہ زندگی موجود تھی، مگر انہوں نے اللہ کی رضا کیلئے سب کچھ قربان کر دیا۔

ایمان کی خاطر ہجرت

جب دقیانوس کو معلوم ہوا کہ یہ نوجوان بت پرستی چھوڑ کر ایک اللہ پر ایمان لے آئے ہیں تو اس نے انہیں دربار میں طلب کیا۔ بادشاہ نے انہیں حکم دیا کہ یا تو بتوں کی عبادت کرو یا پھر موت کیلئے تیار ہوجاؤ۔

اصحابِ کہف نے نہایت جرات کے ساتھ اعلان کیا:

“ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی اور کو ہرگز معبود نہیں مانیں گے۔”

یہ اعلان اُس وقت کرنا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کے برابر تھا۔ مگر ان نوجوانوں نے حق کا راستہ نہ چھوڑا۔ جب ظلم بڑھ گیا تو وہ اپنے ایمان کو بچانے کیلئے شہر چھوڑ کر ایک غار میں جا چھپے۔

غار کہاں واقع ہے؟

اصحابِ کہف کے غار کے مقام کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں، مگر سب سے مشہور اور مضبوط روایت اردن (Jordan) کے شہر عمان کے قریب “الرقیم” نامی مقام کی ہے۔ وہاں ایک تاریخی غار موجود ہے جسے اصحابِ کہف کا غار کہا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ترکی، شام اور بعض دیگر ممالک میں بھی کچھ مقامات کو اصحابِ کہف سے منسوب کیا جاتا ہے، مگر اکثر اسلامی محققین اردن والے مقام کو زیادہ معتبر سمجھتے ہیں۔

اللہ کی قدرت کا عظیم معجزہ

غار میں پہنچ کر ان نوجوانوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی:

“اے ہمارے رب! ہمیں اپنی رحمت عطا فرما اور ہمارے اس معاملے میں ہمارے لیے بھلائی اور کامیابی کا راستہ پیدا فرما۔”

اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انہیں غار میں گہری نیند سلا دیا۔ قرآنِ پاک کے مطابق وہ وہاں “تین سو نو سال” تک سوتے رہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور نو سال مزید۔”

یہ انسانی تاریخ کا ایک عظیم ترین معجزہ تھا۔ اس دوران سورج غار کے کنارے سے گزرتا تاکہ دھوپ ان کے جسموں کو نقصان نہ پہنچائے۔ اللہ تعالیٰ ان کے جسموں کو کروٹیں بھی دلواتا رہا تاکہ وہ محفوظ رہیں۔ ان کا کتا قطمیر بھی غار کے دہانے پر بیٹھا رہا۔

بیداری کے بعد حیران کن منظر

صدیوں بعد جب اللہ تعالیٰ نے انہیں جگایا تو انہیں لگا جیسے وہ صرف چند گھنٹے سوئے ہوں۔ انہوں نے ایک ساتھی کو کھانا خریدنے شہر بھیجا، مگر جب وہ شہر پہنچا تو سب کچھ بدل چکا تھا۔

لوگوں کے لباس، زبان، حکومت، سکے اور ماحول سب تبدیل ہو چکے تھے۔ جب اس نے پرانے زمانے کے سکے نکالے تو لوگ حیران رہ گئے۔ پھر حقیقت سامنے آئی کہ یہ وہی نوجوان ہیں جو تین سو سال پہلے لاپتہ ہوگئے تھے۔

یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی زندہ نشانی بن گیا اور لوگوں کو یقین ہوگیا کہ اللہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔

اصحابِ کہف کا پیغام آج کیلئے

اصحابِ کہف کی داستان آج کے نوجوانوں کیلئے بہت بڑا سبق رکھتی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:

حق پر ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی ہے

اللہ کیلئے قربانی کبھی ضائع نہیں جاتی

ایمان انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے

اللہ اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے

نوجوان اگر چاہیں تو معاشرے کو بدل سکتے ہیں

آج کے دور میں جب نوجوان مختلف فتنوں، بے راہ روی، مادہ پرستی اور دین سے دوری کا شکار ہیں، اصحابِ کہف کا واقعہ انہیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر انسان اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ غیب سے مدد فرماتا ہے۔

سورۂ کہف کی فضیلت

احادیثِ مبارکہ میں سورۂ کہف کی تلاوت کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کرے، اس کیلئے دو جمعوں کے درمیان نور پیدا کر دیا جاتا ہے۔

اسی طرح سورۂ کہف کی ابتدائی اور آخری آیات فتنۂ دجال سے حفاظت کا ذریعہ بھی ہیں۔

اصحابِ کہف کا واقعہ قیامت تک آنے والے انسانوں کیلئے یہ پیغام چھوڑ گیا کہ دنیا کی طاقتیں وقتی ہوتی ہیں، مگر اللہ پر ایمان رکھنے والوں کا نام ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں